پاکستانی عوام کے لیے سبق

جاپانی طرزِ زندگی اور طویل عمر

دنیا بھر میں جاپان کو طویل العمر افراد کی سب سے زیادہ آبادی رکھنے والا ملک تصور کیا جاتا ہے۔ جاپان میں 100 سال سے زیادہ عمر کے افراد کا تناسب دنیا میں سب سے زیادہ ہے، اور اس کی کئی وجوہات ہیں، جن میں متوازن خوراک، متحرک طرزِ زندگی، بہترین طبی سہولیات اور مضبوط خاندانی و سماجی رشتے شامل ہیں۔ پاکستان میں، اس کے برعکس، صحت کے مسائل بڑھ رہے ہیں اور عوام کی اوسط عمر جاپان کے مقابلے میں کم ہے۔ یہ مضمون جاپانی طرزِ زندگی کے ان عوامل کو اجاگر کرے گا جو طویل عمر میں معاون ثابت ہوتے ہیں اور دیکھے گا کہ پاکستان ان سے کیا سیکھ سکتا ہے۔
* جاپانی لوگوں کی طویل عمر کی وجوہات *
1. متوازن اور غذائیت سے بھرپور خوراک
جاپانی غذا عام طور پر کم کیلوریز پر مشتمل ہوتی ہے اور متوازن خوراک پر زور دیا جاتا ہے۔ سمندری غذا، سبزیاں، سویابین (جیسے ٹوفو اور مسو سوپ)، اور کم چکنائی والی پروٹین عام خوراک کا حصہ ہیں۔ جاپانی لوگ چاول کو محدود مقدار میں استعمال کرتے ہیں اور زیادہ سبز چائے پینے کی عادت بھی رکھتے ہیں، جو صحت کے لیے انتہائی مفید ہے۔
2. متحرک طرزِ زندگی
جاپان میں بزرگ افراد بھی جسمانی طور پر متحرک رہتے ہیں، خاص طور پر دیہی علاقوں میں۔ روزانہ چہل قدمی، جاپانی روایتی ورزشیں (جیسے "رادیو تایسو") اور دیگر جسمانی سرگرمیاں معمول کا حصہ ہوتی ہیں، جو لمبی عمر میں مدد دیتی ہیں۔
3. مضبوط سماجی و خاندانی رشتے
جاپان میں بزرگ افراد کو عزت دی جاتی ہے اور انہیں تنہا نہیں چھوڑا جاتا۔ خاندان اور برادری کے ساتھ قریبی تعلق ذہنی سکون اور خوشگوار زندگی میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ سماجی روابط انسان کی عمر بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
4. بہترین طبی سہولیات
جاپان میں صحت کی دیکھ بھال کا نظام جدید اور ہر ایک کے لیے قابلِ رسائی ہے۔ بیماریوں کی جلد تشخیص اور بہترین طبی علاج دستیاب ہونے کی وجہ سے اوسط عمر میں اضافہ ہوا ہے۔
5. "ایکیگائی" (زندگی کا مقصد) کا نظریہ
جاپانی ثقافت میں "ایکیگائی" (زندگی کا مقصد) کا نظریہ عام ہے، جو لوگوں کو زندگی کو بامقصد بنانے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے علاوہ، مراقبہ، زین بدھ مت کی تعلیمات اور فطرت سے قربت تناؤ کو کم کرنے میں مدد دیتی ہیں، جو مجموعی صحت کو بہتر بناتی ہیں۔
6. "بلیو زون" علاقے اور صاف ماحول
جاپان کے بعض علاقے، خاص طور پر "اوکیناوا"، کو "بلیو زون" میں شمار کیا جاتا ہے، جہاں لمبی عمر کے حامل افراد بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ ان علاقوں میں صاف ستھرا ماحول، کم آلودگی، اور بہتر طرزِ زندگی لمبی عمر میں مدد دیتی ہے۔
7. فاسٹ فوڈ سے اجتناب
روایتی جاپانی خوراک میں فاسٹ فوڈ یا پروسیس شدہ غذا کی مقدار بہت کم ہوتی ہے، جو دل کی بیماریوں اور دیگر جان لیوا امراض سے محفوظ رکھتی ہے ۔
پاکستان میں صحت مند اور طویل عمر کی راہ میں درپیش چیلنجز
پاکستان میں عوام کی اوسط عمر جاپان کے مقابلے میں کم ہے، جس کی کئی وجوہات ہیں۔ متوازن خوراک کی کمی، جسمانی سرگرمیوں کا فقدان، بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی، اور ناقص طبی سہولیات لوگوں کی صحت پر منفی اثر ڈال رہی ہیں۔ فاسٹ فوڈ اور پروسیس شدہ خوراک کا بڑھتا ہوا رجحان دل کی بیماریوں، ذیابیطس، اور دیگر مہلک امراض میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔
اس کے برعکس، جاپانی طرزِ زندگی ایک مثالی نمونہ پیش کرتا ہے، جہاں متوازن غذا، متحرک طرزِ زندگی، اور سماجی ہم آہنگی نے اوسط عمر میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ پاکستان میں بھی اگر صحت مند طرزِ زندگی کو فروغ دیا جائے، قدرتی غذا کو اہمیت دی جائے، اور سماجی و خاندانی تعلقات کو مضبوط بنایا جائے تو عوام کی مجموعی صحت اور عمر میں بہتری آ سکتی ہے۔ حکومت اور عوام دونوں کو صحت مند طرزِ زندگی کے فروغ کے لیے عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ایک صحت مند اور طویل العمر معاشرہ تشکیل دیا جا سکے ۔
پاکستان جاپان سے کیا سیکھ سکتا ہے؟
متوازن اور قدرتی خوراک کو فروغ دینا: پاکستانی عوام کو چاہیے کہ وہ جاپانی عوام کی طرح غذائیت سے بھرپور خوراک کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں۔ فاسٹ فوڈ سے اجتناب اور دیسی و قدرتی خوراک کا استعمال صحت کے لیے مفید ثابت ہوگا۔
روزانہ کی ورزش اور متحرک طرزِ زندگی: پاکستانی معاشرے میں ورزش اور جسمانی سرگرمیوں کو فروغ دینے کی ضرورت ہے تاکہ موٹاپا اور دیگر بیماریوں سے بچا جا سکے۔
بزرگوں کا احترام اور سماجی روابط میں اضافہ: خاندانی نظام کو مضبوط بنانے اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینے سے ذہنی صحت بہتر ہو سکتی ہے، جس کا براہ راست اثر عمر پر بھی پڑتا ہے۔
ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانا: جاپانی عوام صاف ستھرے ماحول میں رہتے ہیں، جبکہ پاکستان میں ماحولیاتی آلودگی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ حکومت اور عوام دونوں کو مل کر فضائی، آبی اور صوتی آلودگی کے خاتمے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔
جدید طبی سہولیات کی فراہمی: پاکستان میں صحت کی سہولیات میں بہتری لا کر اوسط عمر میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ عوامی سطح پر صحت کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔
جاپانی عوام کی طویل عمر کے پیچھے ان کے متوازن طرزِ زندگی، متحرک روٹین، قدرتی غذا، اور سماجی و خاندانی ہم آہنگی جیسے عوامل کارفرما ہیں۔ اگر پاکستان بھی ان عوامل کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لے تو عوام کی مجموعی صحت اور اوسط عمر میں بہتری ممکن ہو سکتی ہے۔ ایک صحت مند قوم ہی ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتی ہے، اور اس کے لیے حکومت اور عوام دونوں کو مل کر عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔