وِنگار
محبت اور بھائی چارے کی بہترین روایت
ہمارے معاشرے میں باہمی تعاون کی کئی خوبصورت روایات رہی ہیں، جن میں سے ایک "ونگار" تھی۔ ونگار دراصل دیہی علاقوں میں ایک دوسرے کی مدد کرنے کا ایک نظام تھا، جہاں بغیر کسی اجرت کے لوگ مل کر محنت طلب کاموں کو انجام دیتے تھے۔ یہ صرف مزدوری کا تبادلہ نہیں تھا بلکہ بھائی چارے، محبت، اور اخلاص کا عملی مظاہرہ تھا۔
ونگار کا دیہی زندگی میں کردار
پرانے وقتوں میں جب مشینری عام نہیں تھی، دیہات میں فصلوں کی کٹائی، مکان کی تعمیر، اور دیگر بڑے کاموں کے لیے ونگار لیا جاتا تھا۔ لوگ اپنا وقت اور محنت خوشی خوشی دوسروں کے لیے وقف کرتے تھے، کیونکہ انہیں معلوم ہوتا تھا کہ کل کو جب ان پر مشکل وقت آئے گا، تو یہی لوگ ان کے کام آئیں گے۔
ونگار کے دوران صرف کام ہی نہیں ہوتا تھا بلکہ یہ میل جول اور خوشی منانے کا موقع بھی ہوتا تھا۔ روایتی دیسی پکوان، لوک گیت، اور ہنسی مذاق کام کے دوران ماحول کو خوشگوار بنا دیتے تھے۔ یہ سب ونگار کو ایک تہوار کی شکل دے دیتے اور لوگ محنت کو بوجھ کے بجائے خوشی سمجھ کر کرتے تھے۔
مشینری اور جدیدیت کے اثرات
وقت کے ساتھ جب جدید مشینیں اور مزدوروں کی اجرت کا نظام عام ہوا، تو ونگار جیسی روایات کمزور پڑ گئیں۔ آج کے دور میں زیادہ تر لوگ پیسے دے کر کام کروا لیتے ہیں، اور وہ خلوص، محبت، اور بھائی چارے کا جذبہ جو ونگار میں تھا، اب بہت کم نظر آتا ہے۔
کیا ونگار کو دوبارہ زندہ کیا جا سکتا ہے؟
اگرچہ شہروں میں یہ روایت تقریباً ختم ہو چکی ہے، لیکن کچھ دیہات میں اب بھی ونگار کا تصور باقی ہے۔ آج کے دور میں بھی اگر ہم چاہیں تو اس روایت کو مختلف طریقوں سے زندہ کر سکتے ہیں، چاہے وہ کوئی زراعتی کام ہو، کوئی تعمیراتی منصوبہ، یا کسی ضرورت مند کی مدد کرنا ہو۔ ونگار کے تصور کو جدید انداز میں اپنانا ہماری سماجی ہم آہنگی کو دوبارہ مضبوط کر سکتا ہے۔
ونگار صرف مدد کرنے کا نام نہیں تھا، بلکہ یہ ہمارے کلچر کا وہ حسین حصہ تھا جو اخلاص، محبت اور سماجی تعاون کی عکاسی کرتا تھا۔ آج کے دور میں بھی اگر ہم ایک دوسرے کا ساتھ دیں، بغیر کسی لالچ اور مفاد کے، تو ہم اس خوبصورت روایت کو نئی زندگی دے سکتے ہیں اور اپنے معاشرے کو مزید مضبوط اور محبت بھرا بنا سکتے ہیں۔
تحریر پڑھنے کا شکریہ ۔۔۔
Like / Share & Follow on Facebook:
0 Comments