اسلامی سنہری دور کی وہ ایجادات جنہیں دنیا بھول گئی

اسلامی سنہری دور، جو 8ویں سے 14ویں صدی تک محیط تھا، علم، سائنس اور تحقیق کے میدان میں مسلمانوں کی بے مثال کامیابیوں کا دور تھا۔ اس دور میں مسلم سائنسدانوں نے ایسی ایجادات کیں جو آج کی جدید دنیا کی بنیاد بنیں، لیکن بدقسمتی سے، ان میں سے بہت سی ایجادات کو وقت کے ساتھ فراموش کر دیا گیا ہے۔ آئیے، ان عظیم مسلم سائنسدانوں اور ان کی ناقابلِ یقین ایجادات پر نظر ڈالتے ہیں۔

الجزری کی مشینی ایجادات
اسماعیل الجزری (1136-1206) ایک مایہ ناز مسلمان انجینئر اور موجد تھے۔ انہوں نے 1206ء میں "الجامع بین العلم والعمل النافع فی صناعت الحیل" نامی کتاب تصنیف کی، جس میں 50 سے زائد مشینوں کے تفصیلی ڈیزائن اور طریقہ کار بیان کیے گئے ہیں۔ ان کی مشہور ایجادات میں پانی سے چلنے والی گھڑیاں، خودکار فوارے، اور پانی کھینچنے والی مشینیں شامل ہیں۔ ان کی ایجادات نے جدید انجینئرنگ، ہائیڈرولکس اور حتیٰ کہ روبوٹکس کی بنیاد رکھی (Islamic Scientific Heritage).
عباس ابن فرناس کی پرواز
عباس ابن فرناس (810-887) ایک مسلم سائنسدان، موجد، اور شاعر تھے، جنہوں نے 9ویں صدی میں پرواز کی کوشش کی۔ انہوں نے پرندوں کو دیکھ کر ایک ایسا لباس تیار کیا جس سے وہ ہوا میں اڑ سکے۔ اگرچہ ان کی پرواز مکمل طور پر کامیاب نہ ہوئی، لیکن یہ ایوی ایشن کی دنیا میں پہلا قدم تھا۔ ان کی ایجادات نے بعد میں ہوابازی کے شعبے پر گہرے اثرات مرتب کیے (BBC Science).
الزہراوی کے جراحی آلات
الزہراوی (936-1013) کو جدید سرجری کا بانی کہا جاتا ہے۔ انہوں نے 200 سے زائد جراحی آلات ایجاد کیے، جن میں نشتر (scalpel)، چمٹی (forceps) اور اندرونی ٹانکوں کے لیے "کیٹ گٹ" جیسے دھاگے شامل تھے۔ ان کی تصنیف "التصریف" صدیوں تک یورپ اور اسلامی دنیا میں طبی تعلیم کا حصہ رہی۔ جدید سرجری میں آج بھی ان کے آلات کی ترمیم شدہ شکلیں استعمال ہوتی ہیں (NIH).
ابن الہیثم اور کیمرہ
ابن الہیثم (965-1040) نے روشنی اور بصریات پر جو تحقیق کی، اس نے آج کی کیمرہ ٹیکنالوجی کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے "کیمرا اوبسکیورا" کا تصور دیا جس میں روشنی ایک چھوٹے سوراخ سے گزر کر تصویر بناتی ہے۔ یہی تصور آج کے جدید کیمرے کی بنیاد ہے۔ ان کے نظریات نے بعد میں مغربی سائنسدانوں کو روشنی اور بصریات پر مزید تحقیق کرنے کی تحریک دی (History of Science Museum).
مسلم دنیا کے ہسپتال اور میڈیکل اسکولز
اسلامی سنہری دور میں دنیا کے پہلے جدید ہسپتال قائم کیے گئے جہاں وارڈز، فارمیسیز اور خصوصی علاج کے شعبے موجود تھے۔ بغداد اور قرطبہ کے ہسپتال دنیا بھر میں اپنی مثال آپ تھے، جہاں مریضوں کو بہترین علاج اور مفت ادویات فراہم کی جاتی تھیں۔ یہ ہسپتال یورپ کے قرونِ وسطیٰ کے اسپتالوں کے لیے ایک نمونہ بنے اور آج کے جدید طبی مراکز کا پیش خیمہ ثابت ہوئے (Wellcome Library).
یہ وہ ایجادات ہیں جنہوں نے دنیا کو بدل کر رکھ دیا، لیکن افسوس کہ آج ان کا ذکر کم سننے کو ملتا ہے۔ ان مسلم سائنسدانوں کی محنت اور تحقیق کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہمارا فرض ہے۔ ہمیں ان عظیم شخصیات سے سیکھتے ہوئے تحقیق، علم اور ترقی کے میدان میں آگے بڑھنا چاہیے۔