Search This Blog

Ticker

6/recent/ticker-posts

سوشل میڈیا: ایک خاموش دشمن یا بہترین ساتھی؟

 سوشل میڈیا: ایک خاموش دشمن یا بہترین ساتھی؟

آج کے ڈیجیٹل دور میں سوشل میڈیا ہماری زندگیوں میں اتنا سرایت کر چکا ہے کہ یہ بیک وقت ایک بہترین دوست بھی ہے اور ایک خاموش دشمن بھی۔ والدین اکثر سمجھتے ہیں کہ ان کے بچے گھر میں محفوظ ہیں، لیکن وہ نہیں جانتے کہ خطرہ اب دروازوں اور دیواروں سے نہیں بلکہ ہاتھ میں پکڑے اسمارٹ فون سے داخل ہو چکا ہے۔
سوشل میڈیا: ترقی یا تباہی؟
سوشل میڈیا نے دنیا کو ایک گلوبل ویلیج میں تبدیل کر دیا ہے۔ علم، کاروبار، سماجی تعلقات، اور تفریح کے بے شمار مواقع اس پلیٹ فارم پر موجود ہیں۔ دوسری طرف، یہی سوشل میڈیا خطرات، نفسیاتی مسائل، اور اخلاقی زوال کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔
1. سوشل میڈیا کی مثبت طاقت
سوشل میڈیا اگر مثبت انداز میں استعمال کیا جائے تو یہ ایک شاندار پلیٹ فارم بن سکتا ہے:

تعلیم اور آگاہی: آن لائن کورسز، تعلیمی ویڈیوز، اور تحقیقی مواد اب ہر فرد کی دسترس میں ہے۔
کاروبار اور روزگار: فری لانسنگ، آن لائن شاپنگ، اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے ذریعے ہزاروں لوگ اپنے گھر بیٹھے روزگار کما رہے ہیں۔
سماجی تعلقات: دوستوں اور رشتہ داروں سے جڑے رہنے کا ایک آسان ذریعہ ہے۔
2. سوشل میڈیا کے خطرات اور نقصانات
مگر جہاں سوشل میڈیا فائدہ مند ہے، وہیں یہ سنگین مسائل کو بھی جنم دے سکتا ہے:
نامناسب تعلقات: غیر محفوظ آن لائن دوستیاں اور ناجائز تعلقات کئی زندگیاں برباد کر چکے ہیں۔
نفسیاتی مسائل: جعلی خوشیوں اور چمک دمک کے پیچھے بھاگنے سے لوگ احساسِ کمتری اور ڈپریشن کا شکار ہو رہے ہیں۔
بلیک میلنگ اور سائبر کرائم: ذاتی معلومات اور تصاویر کا غلط استعمال روزانہ کئی لوگوں کو بلیک میلنگ کا شکار بنا رہا ہے۔
ذمہ داری کس کی؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور تم سے تمہاری رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔" (بخاری و مسلم)
یہ والدین، اساتذہ، اور معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ وہ نئی نسل کی صحیح رہنمائی کریں۔
والدین کیا کر سکتے ہیں؟
1. اولاد پر نظر رکھیں، مگر اعتماد کا رشتہ بھی قائم کریں۔ خوف اور سختی کے بجائے محبت اور سمجھداری سے ان کی رہنمائی کریں۔
2. دینی اور اخلاقی تربیت پر توجہ دیں۔ بچوں کو حیا، عزت، اور اپنی حدود کا شعور دیں۔
3. خود سوشل میڈیا کا مثبت استعمال کریں تاکہ بچے بھی اس کا درست طریقہ سیکھیں۔
4. ٹیکنالوجی سے آگاہی حاصل کریں۔ بچوں کو ڈیجیٹل دنیا میں محفوظ رکھنے کے لیے والدین کو خود بھی ٹیکنالوجی کے بارے میں جاننا ضروری ہے۔
حقیقی حفاظت کیا ہے؟
دروازے بند کرنے سے فتنے نہیں رکتے، بلکہ دلوں میں تقویٰ اور شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہمارے نوجوانوں کے دل میں اللہ کا خوف اور صحیح و غلط کی تمیز ہوگی، تو کوئی بھی فتنہ انہیں بہکا نہیں سکے گا۔
سوشل میڈیا ایک طاقتور ذریعہ ہے، بس فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم اسے اپنا بہترین ساتھی بناتے ہیں یا خاموش دشمن!

Post a Comment

0 Comments

Ad Code

Responsive Advertisement