کیا زبان کا پرنٹ منفرد ہوتا ہے؟

ہم سب جانتے ہیں کہ ہر انسان کے فنگر پرنٹس، آنکھ کی پتلی (Iris)، اور چہرے کے خدوخال منفرد ہوتے ہیں، لیکن کیا زبان کا پرنٹ بھی اسی طرح منفرد ہو سکتا ہے؟ جدید سائنسی تحقیق کے مطابق، ہر فرد کی زبان کی ساخت، بناوٹ، اور اس پر موجود نشانات ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں، جو اسے بایومیٹرک شناخت کے ایک ممکنہ آپشن کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
زبان کا منفرد پرنٹ – سائنسی تحقیق کیا کہتی ہے؟

ماہرین حیاتیات اور کمپیوٹر سائنس دانوں نے مختلف مطالعات میں یہ ثابت کیا ہے کہ زبان کی سطح پر موجود لکیریں، نشانات اور ساخت ایک منفرد شناخت فراہم کر سکتی ہیں۔ 2017 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق، زبان کے بایومیٹرک اسکین کی مدد سے کسی بھی شخص کی شناخت کی جا سکتی ہے۔
یہ تحقیق بتاتی ہے کہ زبان کی شناخت میں تین بنیادی خصوصیات اہم ہوتی ہیں:
1. شکل: ہر فرد کی زبان کی لمبائی، چوڑائی، اور کناروں کی ساخت مختلف ہوتی ہے۔
2. بناوٹ: زبان کی سطح پر موجود چھوٹے خدوخال، لکیریں اور تحریری نقشے منفرد ہوتے ہیں۔
3. حرکت: ہر انسان کی زبان حرکت کرنے کے مخصوص انداز رکھتی ہے، جو اسے مزید مخصوص بنا دیتا ہے۔
بایومیٹرک سیکیورٹی میں زبان کا کردار
چونکہ زبان جسم کے اندرونی حصے میں ہوتی ہے، اس لیے یہ فنگر پرنٹس یا چہرے کی شناخت سے زیادہ محفوظ ہو سکتی ہے۔ زبان کے 3D اسکین کو مستقبل میں بایومیٹرک تصدیق کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، خاص طور پر ایسی جگہوں پر جہاں عام شناختی طریقے ناکام ہو سکتے ہیں۔
زبان کی شناخت کے ممکنہ استعمال ۔
1. سیکیورٹی اور لاک سسٹمز
جدید بایومیٹرک لاک سسٹمز میں زبان کے پرنٹ کا استعمال حساس مقامات جیسے کہ فوجی اڈوں، بینکوں اور سیکیورٹی تنصیبات میں کیا جا سکتا ہے۔
2. طبی تحقیق
زبان کی ساخت میں تبدیلیاں مختلف بیماریوں، جیسے ذیابیطس اور دیگر اندرونی امراض کی نشاندہی میں مدد دے سکتی ہیں۔
3. جرائم کی تفتیش
جدید فرانزک سائنس میں زبان کے پرنٹ کو مجرموں کی شناخت کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، جو جرم کی تحقیقات میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
کیا زبان کا پرنٹ چوری ہو سکتا ہے؟
چونکہ زبان جسم کے اندر ہوتی ہے، اس لیے اسے چہرے کی شناخت یا فنگر پرنٹس کے برعکس چوری کرنا مشکل ہوتا ہے۔ تاہم، مصنوعی ذہانت (AI) اور بایومیٹرک ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ، مستقبل میں اس پر مزید تحقیق کی جا رہی ہے تاکہ اس کے ممکنہ خطرات کو سمجھا جا سکے۔
زبان کا پرنٹ انسانی شناخت کے ایک نئے اور جدید طریقے کے طور پر ابھر رہا ہے۔ اگرچہ اس پر مزید تحقیق درکار ہے، لیکن ابتدائی سائنسی شواہد بتاتے ہیں کہ یہ شناختی تصدیق، سیکیورٹی، اور طبی تحقیق میں انقلابی تبدیلیاں لا سکتا ہے۔ مستقبل میں زبان کی 3D اسکیننگ نہ صرف بایومیٹرک سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنا سکتی ہے بلکہ طبی میدان میں بھی ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
حوالہ جات
Zhang, Z., Yan, H., & Dai, F. (2017). Tongue Print: A Novel Biometric Identifier. IEEE Transactions on Information Forensics and Security. Link
Lee, J., & Park, H. (2019). 3D Tongue Scanning for Biometric Authentication. Journal of Biometric Recognition. Link