ایسے سلیقے جو کتابوں میں نہیں ، مگر عملی زندگی میں ضروری ہیں  

 زندگی گزارنے کے وہ ہُنر، طریقے، سلیقے جو اسکول، مدارس میں سِکھائے جانے چاہیئں

 


آج کے بچے کے ہاتھ میں موبائل ہے، آنکھیں اسکرین پر ہیں، لیکن دل بےچین ہے اور دماغ پریشان۔ ڈگریاں ضرور ہیں، لیکن فیصلہ سازی کا فن ناپید ہے۔ ہماری درسگاہیں صرف کتابی علم دیتی ہیں، زندگی گزارنے کے ہنر نہیں۔

 

 بات کرنے کا سلیقہ سِکھانا ضروری ہے

بچوں کو سکھایا جائے کہ اختلاف کا مطلب دشمنی نہیں۔ نرمی، لحاظ اور عزت کے ساتھ اپنی بات کہنا اور دوسروں کی سننا ایک ایسا اخلاقی فن ہے جو معاشرے میں امن لاتا ہے۔



 دل و دماغ کو سنبھالنے کا فن
زندگی کی دوڑ میں تھک چکے بچوں کو سکھانا ہے کہ خاموشی، گہری سانس اور اندرونی سکون بھی ضروری ہے۔ دل کی سننا اور دماغ کو آرام دینا اُنہیں شکرگزاری، صبر اور سکون دے گا۔


 سیکھنے کا سلیقہ
رٹّا مارنے کے بجائے، بچوں کو یہ سکھانا ضروری ہے کہ سوال کیسے پوچھا جائے؟ بات کو کیسے سمجھا جائے؟ تعلیم کا اصل مقصد سمجھنے اور اپنانے کا عمل ہونا چاہیے۔

 منفی سوچوں کو پہچاننا اور قابو پانا
ہر ذہن کبھی نہ کبھی غلط سمت میں سوچتا ہے۔ بچوں کو یہ سکھایا جانا چاہیے کہ کب ان کا دماغ انہیں دھوکہ دے رہا ہے، اور کیسے اپنے خیالات کا جائزہ لیا جائے۔

 ذمے داریاں اور ٹیکس کا شعور
بچے جب کمانے لگیں تو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اپنے ملک کو کیا دینا ہے، کیوں دینا ہے، اور کیسے دینا ہے۔ خرچ، آمدنی اور حساب کتاب کی تربیت بچپن سے شروع ہونی چاہیے۔

 کمپیوٹر اور جدید سافٹ ویئرز کا استعمال
آج کے دور میں ایکسل، AI اور کمپیوٹر کے دیگر ٹولز کا استعمال آنا لازمی ہے۔ بچوں کو سکھایا جائے کہ منصوبہ بندی، خرچ اور بچت کیسے کرتے ہیں۔

 پیسے جمع کرنے کا ہنر
جیب میں کتنے پیسے رکھنے ہیں، کہاں خرچ کرنے ہیں اور کہاں سے بچانا ہے — یہ سب سیکھنا ضروری ہے۔ جس نے بچپن میں بچت سیکھی، وہ جوانی میں قرض سے بچا رہا۔


 نوکری تلاش کرنے کی مہارت
ڈگری حاصل کرنے کے بعد بے عملی نہیں ہونی چاہیے۔ بچوں کو نوکری کے لیے سی وی بنانا، درخواست لکھنا، اور انٹرویو دینا سکھایا جائے تاکہ وہ بااعتماد ہوں۔

 جھگڑے سلجھانے کا ہنر
اگر کسی سے ناراضی ہو جائے تو محبت سے بات چیت کرکے مسئلہ حل کیا جائے۔ غصے کو قابو میں رکھنا اور ضد چھوڑنا اصل تربیت ہے۔

 دماغی صحت کا خیال رکھنا
جسمانی صفائی کی طرح ذہنی صفائی بھی ضروری ہے۔ بچوں کو سکھایا جائے کہ وہ اپنے جذبات کو پہچانیں، وقت پر مدد مانگیں، اور غم کو اندر نہ رکھیں۔

 توجہ سے سننے کا فن
بولنا سب سیکھتے ہیں، سننا بہت کم لوگ۔ دل سے سننے والا شخص رشتے سنوارتا ہے اور دل جیت لیتا ہے۔ یہ ہنر زندگی بھر کام آتا ہے۔


 والدین اور اساتذہ سے گزارش
کتابی علم کے ساتھ جینے کے ہنر سکھانا بھی ضروری ہے۔ ہر استاد، ہر کلاس، ہر بچہ اگر یہ سفر شروع کرے تو ہمارا کل بہتر ہو سکتا ہے۔ بچوں میں اعتماد تب ہی آئے گا جب وہ زندگی کے مسائل سے نپٹنے کے ہنر سیکھیں۔

اللہ آپ کو آسانیاں عطا فرمائے۔ آمین

اگر آپ کو ہمارا یہ بلاگ پسند آیا ہو تو براہ کرم ہمیں فالو کریں، شیئر کریں، اور اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں ضرور کریں۔ شکریہ!
معلوماتی تحریر کیلیے ہمارے فیس بک پیج کو جوائن کریں