زندگی کیلیے پہلا قدم
پہلی قسط
صبح کی دھوپ نے کراچی کی عمارتوں کو سونے کی طرح جگمگا دیا تھا۔ عارف اپنے دفتر کی کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا، اس کے ہاتھ میں ایک خط تھا جس پر لکھا تھا: "آپ کی ترقی کی درخواست مسترد کر دی گئی ہے۔" یہ اس سال تیسری
اس نے اپنے موبائل پر ایک ویڈیو کھولی جو اس کے چچا زاد بھائی نے
بھیجی تھی۔ ویڈیو میں اس کے آبائی گاؤں "چک نوراں" کا پرانا اسکول
دکھائی دے رہا تھا، جس کی چھت گر چکی تھی اور دیواریں جھک کر گرنے والی تھیں۔ بچے
کھلی فضا میں زمین پر بیٹھے تھے، جبکہ استاد صاحب ٹوٹی ہوئی سلیٹ پر لکھ رہے تھے۔
ویڈیو کے آخر میں ایک چھوٹی سی بچی نے کیمرے کی طرف دیکھ کر پوچھا تھا:
"بھیا، کیا آپ ہمارے لیے نئی کتابیں لائیں گے؟"
عارف نے اچانک اپنا فیصلہ کر لیا۔ وہ اٹھا اور اپنے منیجر کے کمرے
میں داخل ہوا۔ "سر، میں استعفیٰ دے رہا ہوں۔ مجھے اپنے گاؤں جانا ہے،"
اس نے پرعزم انداز میں کہا۔ منیجر نے حیرت سے دیکھا، "تم پاگل ہو گئے ہو؟ یہ
اچھی خاصی نوکری چھوڑ کر کہاں جا رہے ہو؟" لیکن عارف کا ذہن پکا تھا۔
تین دن کی مسافت کے بعد، عارف اپنے گاؤں پہنچا۔ پہلی نظر میں ہی
اسے گاؤں کی پسماندگی صاف نظر آ رہی تھی۔ اسکول کی عمارت جسے وہ بچپن میں یاد کرتا
تھا، اب کھنڈرات میں تبدیل ہو چکا تھا۔ گاؤں کے بچے کھیتوں میں کام کرتے نظر آئے،
جبکہ بزرگ چائے کے کٹورے کے گرد بیٹھ کر نوجوان نسل کی "بے راہ روی" پر
بحث کر رہے تھے۔
عارف نے اپنا سامان اپنے چچا کے گھر رکھا، جو اس کے آنے پر خوش تو تھے لیکن اس کے فیصلے کو سمجھ نہیں پا رہے تھے۔ اس نے ایک سرخ رنگ کی ڈائری نکالی اور پہلے صفحے پر لکھا: "روزنامہ عزم: آج سے میں چک نوراں کے
اگلے دن صبح سویرے، عارف نے گاؤں کا دورہ شروع کیا۔ پہلا پڑاؤ حاجی
صاحب کا گھر تھا، جو گاؤں کے معتبر بزرگ تھے۔ "بیٹا، تم پڑھ لکھ کر بھی یہاں
کی مٹی میں کھو جانا چاہتے ہو؟ شہر میں نوکری کرو، پیسہ بھیجو،" حاجی صاحب نے
مشورہ دیا۔ لیکن عارف نے جواب دیا: "حاجی صاحب، پیسے سے زیادہ اہم علم ہے۔
میں چاہتا ہوں کہ ہمارے بچے بھی پڑھ لکھ کر اچھے انسان بنیں۔"
گاؤں کی گلیوں میں گھومتے ہوئے، عارف کی ملاقات فاطمہ نامی ایک
بارہ سالہ بچی سے ہوئی، جو کھرپے سے کھیت صاف کر رہی تھی۔ "بھیا، کیا واقعی
ہم پڑھ پائیں گے؟" فاطمہ نے معصومیت سے پوچھا۔ اس سوال نے عارف کے عزم کو اور
بھی مضبوط کر دیا۔
پہلے ہفتے میں، عارف نے اپنی جمع پونجی سے اسکول کی مرمت کا کام
شروع کیا۔ اس نے سوشل میڈیا پر ایک اپیل بھی جاری کی، جس میں دوستوں اور رشتہ
داروں سے کتابوں اور یونیفارم کی اپیل کی گئی۔ ساتھ ہی، اس نے گاؤں کی خواتین کو
اکٹھا کیا اور انہیں سمجھایا: "اگر آپ کے بچے پڑھ لیں تو وہ کھیتوں میں نہیں،
بڑے دفاتر میں کام کریں گے۔"
پہلے دن صرف پانچ بچے آئے۔ لیکن عارف نے ہمت نہ ہاری۔ اس نے درخت کے نیچے چٹائی بچھا کر کلاس شروع کی۔
موبائل فون سے یوٹیوب پر تعلیمی ویڈیوز دکھائیں۔( پاکستان میں مفت آن لائن ڈیجیٹل سکل) https://digiskills.pk/
پر ہوتا " تم میں سے کوں میرا مددگار بنے گا ۔روز وہ بچوں کو ایک نئی کہانی سناتا، جس کا اختتام ہمیشہ ایک سوال
مزید معلومات کیلیے وزٹ کریں ۔
https://www.facebook.com/share/1AB7TxdZuJ/
ایک مہینے کے اندر ہی تبدیلی کے آثار نظر آنے لگے۔ 25 بچے باقاعدگی سے آنے لگے۔ تین نوجوان لڑکے عارف کے معاون بن گئے۔ گاؤں کی خواتین نے مل کر ایک چھوٹی سی لائبریری بنائی۔ لیکن سب سے بڑی کامیابی اس دن ملی جب فاطمہ نے اپنی پہلی نظم لکھی: "ہم سیکھیں گے، ہم بڑھیں گے، ہم اپنے گاؤں کو جگمگائیں گے!"
اس شام، عارف نے اپنی ڈائری میں لکھا: "آج ہم نے پہلی جنگ جیت
لی ہے۔ لیکن ابھی تو راستہ طویل ہے۔ اگلے ہدف: ایک مستقل اسکول عمارت، کمپیوٹر
لیب، اور خواتین کے لیے ہنر مندی کے مفید اور مفت کورسز کیلیے اپنی جدوجہد شروع
کرنی ہے ۔
سوشل آربٹ کے قاریئن کے نام ،
اس کہانی کو شوسل آربٹ کے ساتھ شیئر کریں
تبصرے میں
بتائیں – آپ کے علاقے میں کون سی تبدیلی ضروری ہے؟
ہمارے
" سوشل آربٹ " سے جڑیں
اپنی بہتریں رائے اور تجربات ہمارے فیس بک پیج پر شیئر کریں ۔
https://www.facebook.com/SocialOrbit1020
0 Comments