ہم اپنی آنے والی نسلوں کو خود ہی کمزور بنا رہے ہیں
بچپن کی تربیت: محبت یا لاڈ
کا غلط استعمال؟
ہر والدین چاہتے ہیں کہ ان کا بچہ خوش رہے، لیکن کیا ہم غلط طریقے سے ان کی خوشی خرید رہے ہیں؟ بچپن میں اگر بچے کو کبھی موقع ہی نہ دیا جائے کہ وہ اپنا بستہ خود سنبھالے، اپنے کپڑے خود تلاش کرے، یا اپنا کمرہ صاف کرے، تو وہ بڑا ہو کر کیسے خود انحصار بنے گا؟
ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ چھوٹی عمر میں بچوں کو ذمہ داریاں دینا ان کی شخصیت کو مضبوط بناتا ہے۔ اگر ہم ہر چیز ان کے لیے خود کر دیں گے، تو وہ زندگی بھر دوسروں کا انتظار کرتے رہیں گے۔
"ماں، میرا
یہ کام کر دو!" — ایک خطرناک عادت
آج کل کے بچے ہر چیز کے لیے ماں باپ پر انحصار کرتے ہیں۔ انہیں یہ بھی نہیں پتہ کہ اپنا اسکول یونیفارم کہاں رکھی ہے یا اپنا ہوم ورک کیسے مکمل کرنا ہے۔ کیا وجہ ہے؟ وجہ یہ ہے کہ ہم نے انہیں کبھی موقع ہی نہیں دیا کہ وہ خود کچھ کر کے دیکھیں۔
اگر آپ کا بچہ ہر وقت کہتا ہے، "امی یہ کر دو، ابا وہ کر دو"، تو یہ خطرے کی گھنٹی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ خود کچھ کرنے کے عادی نہیں ہیں۔ مستقبل میں یہی عادت ان کی کامیابی میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جائے گی۔
کیا ہمارے بچے مستقبل میں اپنے گھر سنبھال پائیں گے؟
سوچیں کہ جو بچہ اپنا بستہ تک خود نہیں اٹھاتا، وہ بڑا ہو کر اپنے گھر کی ذمہ داری کیسے سنبھالے گا؟ جو لڑکا اپنے کپڑے تک خود نہیں دھو سکتا، وہ اپنے بچوں کی پرورش کیسے کرے گا؟ جو لڑکی اپنا کمرہ صاف نہیں کر سکتی، وہ پورے گھر کو کیسے منظم کرے گی؟
یہ صرف گھر کی بات نہیں، بلکہ پوری قوم کا مسئلہ ہے۔ اگر ہم اپنے بچوں کو چھوٹی عمر سے ہی ذمہ داری نہیں سکھائیں گے، تو آنے والی نسلیں معاشرے کو سنبھالنے کے قابل نہیں ہوں گی۔
https://socialorbit2020.blogspot.com/2025/05/blog-post_18.html
اسکولوں میں آج کل ایک عجیب صورتحال دیکھنے کو ملتی ہے۔ بچے ہر چیز کے لیے استاد یا والدین کا انتظار کرتے ہیں۔ اگر انہیں کوئی مسئلہ درپیش ہو، تو وہ خود حل کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ کیوں؟ کیونکہ گھر میں انہیں کبھی موقع ہی نہیں ملا کہ وہ خود کچھ کر کے دیکھیں۔
تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ جو بچے چھوٹی عمر میں اپنے فیصلے خود کرتے ہیں، وہ بڑے ہو کر زیادہ کامیاب ہوتے ہیں۔ اگر ہم اپنے بچوں کو ہر چیز میں مدد کرتے رہیں گے، تو وہ کبھی بھی خود اعتمادی حاصل نہیں کر پائیں گے۔
تبدیلی کیسے لائی جائے؟
چھوٹی ذمہ داریاں دیں
- بچے کو اپنا بستہ خود تیار کرنے دیں۔
- اسے اپنے کپڑے خود الماری میں رکھنے دیں۔
- اسے اپنا کمرہ صاف کرنے کی عادت ڈالیں۔
مسائل خود حل کرنے دیں
- اگر اسکول کا کوئی کام رہ گیا ہے، تو فوراً مدد نہ کریں۔ اسے خود سوچنے دیں۔
- اگر اسے کوئی چیز نہیں مل رہی، تو خود تلاش کرنے دیں۔
مثالیں قائم کریں
- اگر والدین خود منظم اور خود انحصار ہوں گے، تو بچے بھی انہیں دیکھ کر سیکھیں گے۔
آخری بات: ہمیں اپنی سوچ بدلنی ہوگی
ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ ہم اپنے بچوں کو کیسے دنیا میں بھیج رہے ہیں۔ کیا ہم انہیں صرف ڈگریاں دے کر بھیج رہے ہیں، یا انہیں زندگی کی حقیقی مشکلات کا مقابلہ کرنے کے قابل بھی بنا رہے ہیں؟
تربیت کا مقصد صرف کتابی علم دینا نہیں، بلکہ بچے کو زندگی کی جنگ لڑنے کے قابل بنانا ہے۔ اگر ہم اپنے بچوں کو ہر چیز "حاضر" کرتے رہیں گے، تو وہ کبھی بھی "تیار" نہیں ہو پائیں گے۔
آج ہی سے عہد کریں کہ آپ اپنے بچے کو خود انحصار بنائیں گے۔ اسے محبت تو ضرور دیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اسے ذمہ داریاں بھی سکھائیں۔ کیونکہ ایک مضبوط نسل ہی ملک و قوم کی ترقی کی ضامن ہوتی ہے۔
سوال آپ کے لیے
کیا آپ کے گھر میں بچوں کو چھوٹی چھوٹی ذمہ داریاں دی جاتی ہیں؟ اگر نہیں، تو آپ کب سے شروع کرنے والے ہیں؟ اپنے خیالات کمنٹس میں ضرور شیئر کریں!.......




0 Comments