…………قصہ پانچ ارب روپے کا

کراچی کی مضافات میں ایک ناکام ہاؤسنگ سوسائٹی تھی۔۔۔۔ جسے بارہا نیے ناموں سے لاونچ کیا گیا مگر کوئی پلاٹ فروخت نہیں ہوپایا،،، پھر کیا ہوا کہ اورنگی ٹاون کا ایک لوکل موٹیویشنل اسپیکر سامنے آیا اس نے سوسائٹی کے مالک سے کہا کہ آپ بے فکر رہیں میں تمام پلاٹ فروخت کرنے کا بندوبست کرتا ہوں۔۔۔ موٹیویشنل اسپیکر نے بطور ٹیم ممبر مجھ سمیت تین دیگر لڑکوں کو بلایا،، ہمیں سوسائٹی کا نقشہ دکھایا۔۔ کہا تین ارب روپے کا منافع ہے جسے ہم سب مل کر ففٹی ففٹی کرے گے۔۔ جس ہوٹل میں بیٹھ کر ہم یہ گفتگو کررہے تھے اس ہوٹل میں غربت کا یہ عالم تھا کہ ایک کپ چائے کے دو حصے بنا کر اسے کٹ کہتے ہوئے دس روپے والی چائے پانچ روپے میں دے دیا کرتے تھے۔۔ موٹیویشنل اسپیکر نے بتایا کہ جب تین ارب روپے ہمارے ہاتھ آئے گے تو بیوقوف بن کر انھیں اڑائے گے نہیں بلکہ ان پیسوں سے گڈانی شپ یارڈ میں کھڑا بحری جہاز خریدے گے اسے بیچ کر منافع پانچ ارب کردیں گے-- ہر بار وہ اسپیکر منافع کی مد میں ایک ارب بڑھاتا اور کہنی موڑ کر کہتا ہم کرسکتے ہیں " ہم بھی ساتھ زور دے کر یسس "بولتے اور اعتراف کرتے کہ بلکل بھائی ہم ہی کرے گے۔۔ بلااخر ہوٹل والے سے یہ کہہ کر اٹھ گئے کہ پیسے حساب میں لکھ لو۔ 

سوسائٹی کا چارج سنبھالا تو کھلے میدان میں دو منزلہ کمرہ تھا۔ جس میں پرانا فرنیچر پڑا تھا اس کی ڈسٹینگ کی اور بیٹھ گئے افس ایسا تھا کہ اندر داخل ہوجائے تو پرانے صوفے جن کے کشن پھٹ چکے تھے جبکہ سیڑھیاں چڑھے تو ڈائریکٹر افس تھا اور ڈائریکٹر کا عہدہ مجھے دیا گیا تھا۔ نیچے بیٹھنے کی ذمہ دار ہم نے ایک بلوچ لڑکے کی لگا دی جبکہ کسٹمر کو ڈیل کرنا میرے ذمے ہوگیا۔۔ پہلے دن ہم نے آفس کے لئے شاپنگ کی ایک چھوٹا گیس کا سلنڈر لے لیا۔۔ جسے لینے پر ہم میں سے کوئی بھی آمادہ نہیں تھا سوائے موٹیویشنل اسپیکر کے " کیونکہ انھی دنوں حب بلوچستان میں گیس سلنڈر کو لیکر ایک اندوہناک واقعہ ہوا تھا ایک گھر میں سلنڈر پھٹنے کی وجہ سے پانچ افراد شدید زخمی ہوگئے پہلے دن ایک کی موت ہوئی دوسرے دن دوسرے کی یو پانچ دن لگتار لوگوں نے قبریں کھودی اور پانچ افراد کی تدفین ہوئی ایک ہی گھر سے،، اس سانحے کے بعد پورا علاقہ سلنڈر کو لیکر ایسا خوفزدہ ہوا کہ سلنڈر کا استعمال ہی چھوڑ دیا۔ بہرحال ہم نے خرید لیا تاکہ بہ وقت ضرورت چائے تو تیار کرسکے۔۔ کچھ دن ہم نے اس دفتر میں خوب مکھیاں ماری۔ سوسائٹی کی پھیلی زمین پر ٹڈے پکڑے،، مگر چوتھے دن موٹیویشنل اسپیکر نے خوشخبری سنا دی کہ کل ہمارے افس بٹ صاحب تشریف لائیں گے مجھے بتایا کہ میں انتہائی پروفیشنل بن کر ان سے ڈیل کروں اچھے کپڑے پہنوں انھیں ویلکم کروں " جتنا ہوسکے ان کو بتاوں کے آپ کے آنے سے اس بے آب گیاں ویرانے میں بہار آئے گی۔ ہم نے بات مان لی اور اگلے دن سوٹڈ بوٹڈ اپنے کباڑا افس پہنچے " بلوچ نوجوان کو بتایا کہ پتی دودھ کا انتظام کرلو۔ بٹ صاحب کو کڑک دودھ پتی پلائے گے۔۔ 

بٹ صاحب گیارہ بجے کے قریب اپنی ایکس ایل آئی گاڑی میں آئے ان کا ڈرائیور بھی ساتھ تھا۔۔ سفید سوٹ پہنے کالے چشمے لگائے " میں اپنے آفس کے دروازے میں ان کے استقبال کے لئے کھڑا تھا " بٹ صاحب کو ویلکم کیا انھوں نے انتہائی کراہت سے سوسائٹی کی حدود پر نظر ڈالی موٹیویشنل اسپیکر کو بیوقوف کہا اور بولیں " یہاں تو کوئی اپنے کتے نا پالے گھر کیسے بنائے گا"۔ میں نے یہ سن کر فورا وہ چاپلوسی والی لائن کہہ دی کہ "بٹ صاحب آپ جیسے لوگوں کے قدم پڑ جانے کے بعد یہ ویرانہ بھی گلشن بن جائے گا بس آپ کی نوازش ہونی چاہیئے " میری اس بات کا جواب انھوں نے ایک طنزیہ مسکراہٹ سے دیا۔۔ اور داخل ہوگئے دفتر میں ،،، داخل ہوتے ہی میں نے بلوچ لڑکے کی طرف اشارہ کیا کہ سر ان سے ملے ہمارے مینجر " وقار بلوچ " بٹ صاحب نے یہ سنتے ہی وقار کو دیکھا جو ایک چھوڑی گیروا شلوار پہنے سر پر سندھی ٹوپی رکھے اور منہ میں گٹکے کی پیک جمع کیا ہوا تھا -- کہا واہ یہاں مینجر بھی ہوتے ہیں ؟ میں نے فورا جواب دیا جی جی سر میں ڈائریکٹر ہوں " یہ سن کر رک گئے پورے دفتر کو اوپر نیچے دیکھا اور پوچھا کیا تم سب لوگ موٹیویشنل اسپیکرز ہو ؟ کیونکہ یہ والا کنفیڈینس تو میں نے کسی ذہنی طور پر تندرست و صحت مند انسان میں نہیں دیکھا ہے۔ ان کی اس بات پر میں نے بڑی کھسیانی ہنسی ہنس لی " ورنہ اندر ہی اندر گن لوڈ ہوگئی تھی۔۔ 

ہم اوپر چڑھ کر افس میں بیٹھ گئے " وقار کو میں نے بٹ صاحب کے سامنے بلایا اور کہا کہ یار آج ہمارا وہ خانساماں نہیں آیا (حالانکہ خانساماں کوئی تھا ہی نہیں) " لہذا مہربانی کرو آپ بٹ صاحب کے لئے خود چائے بنا لیں " وقار نے کہا جی سر میں بناتا ہوں" اسے میں نے سمجھایا تھا کہ تم کسٹمرز کے سامنے مجھے سر کہا کرو گے " ورنہ عام حالات میں تو وہ مجھے عابد کہنا بھی پسند نا کرتا تھا " صرف ابڑو بولا کرتا تھا " بٹ صاحب کو نقشہ دکھایا۔ مسجد کے لئے وقف جگہ دکھائی۔ پارک کی جگہ دکھائی پلاٹوں کی ترتیب سمجھائی جو سنہرے باغ ہمیں موٹیویشنل اسپیکر نے دکھائے تھے ان تمام سنہروں باغوں کے ساتھ کچھ مزید چاندی کے باغ اپنی جانب سے اضافی ملا کر میں نے بٹ صاحب کو دکھا دئے " وہ کھڑکی سے جھانک کر سوسائٹی کا جائزہ لیتے۔ پھر آکر اس چئیر پر میرے سامنے بیٹھ جاتے جس کی ایک ٹانگ آدھی ٹوٹ چکی تھی اور سہارے کے لئے ہم نے اس ٹوٹی ہوئی ٹانگ کے نیچے سیمنٹ کے تین بلاک رکھ دئے " 

ہماری گفتگو جاری تھی " خوب باتیں ہوچکی تھی کہ اس دوران میرے کانوں میں ایک چیخ سنائی دی " پھر بڑبڑانے کی آواز ائی جسے کوئی خود پر حملہ اور جنگلی جانور کو دور بھگانے کے لئے بڑابڑا رہا ہو -- غور کیا تو وہ آواز وقار کی تھی وہ زور سے ابڑو ابڑو بولا اور ساتھ سلنڈر سلنڈر بھی کہہ دیا " بٹ صاحب بھی قدریں چونک گئے میں نے کہا اپ رکے میں دیکھتا ہوں " میں جلدی سے تنگ سیڑھیاں اترا اترتے ہی جو منظر دیکھا تو دل ایسا دہل گیا مانو عزرائیل سامنے کھڑا ہو گیس کا وہ سلنڈر شعلوں میں لپٹا ہوا تھا " جبکہ شعلوں کے پار دروازے سے دور وقار کھڑا غضبناک انداز میں مجھے چلا کر کہہ رہا تھا " اڑے بھاگو بھاگو سلنڈر پھٹنے والا ہے " میرے پاس وقت نہیں تھا صرف چند ثانیے تھے۔۔ اور چند ثانیوں میں یہ خیال میرے ذہن میں بجلی کی طرح کند گیا کہ اگر واپس اوپر سیڑھیان چڑھتا ہوں تو بٹ صاحب سمیت میرے مرنے کے چانسسز بھی سو فیصد ہوجائے گے کیونکہ سلنڈر بس پھٹنے کو ہی ہے اور اگر میں سلنڈر کے پار دروازے کی جانب دوڑ لگاوں تو پھر میرے بچنے کے دس فیصد چانسسز موجود ہیں" یہ خیال بھی آیا کہ اتنا وقت بھی نہیں کہ میں بٹ صاحب کو آواز دے سکوں" لہذا انھیں اس ناگہانی موت کے واسطے یوں بے خبر ہی چھوڑا جانا بہتر سمجھا۔۔ میں نے دانت پیس کر جسم کو پتھر کرکے کلمہ پڑا اور لپک گیا دروازے کی جانب،،، خوش قسمتی تھی یا عمر نے ابھی مزید کچھ شعلوں میں لپٹے سلنڈر دکھانے تھا میں دفتر سے نکل آیا۔۔ مڑ کر پھر بھی نہیں دیکھا کیونکہ کمر میں برابر یہ گدگدی ہورہی تھی کہ آپ پیچھے دھماکہ ہوگا ساتھ اگ کا بگولہ بلند ہوگا۔ بھاگتے بھاگتے نجانے کب وہ بلوچ میرے شانہ بشانہ ہوا اس نے منہ میں جمع گٹکا تھوکے بغیر دوڑتے غراغراتے ہوئے مجھے یاد دلائے۔۔ آڑے وہ بٹٹٹٹٹٹٹ آڑے وہ بٹھھھھھھھھ ؟ ؟ گٹکے کی پیک اس کے ہونٹوں کے دونوں کناروں سے ہوتے اس کے کانوں تک پہنچ گئی تھی۔۔ میں نے بریک لگائی بٹ صاحب کا ڈرائیور بھی دوڑتے ہوئے ہم تک پہنچا حیرت اور خوف میں ہم سے پوچھا کہ کیا ہوا،، میں نے جواب دئے بغیر کہا چلو بٹ صاحب کو بچاتے ہیں اور لمبا دائرہ گھوم کر افس کی دوسری جانب اگئے جہاں کھڑکی تھی۔۔ کھڑکی کے سامنے کھڑے ہوکر بٹ صاحب کو آواز دی۔ وہ کھڑکی سے جھانکے انھیں بتایا کہ نیچے آگ لگی ہے سلنڈر پھٹنے والا ہے لہذا بٹ صاحب جمپ !!!! جمپ بٹ صاحب جمپ " بٹ صاحب نے بھی حالیہ سلنڈر کا واقعہ سن رکھا تھا۔ لہذا انھوں نے بھی میری طرح فیصلہ لینے میں زیادہ وقت نہیں لیا۔۔ اور جھک کر کھڑکی میں چڑھ گئے- مگر جمپ لگانے سے گھبرا گئے " جگہ لگ بھگ پچیس فٹ اونچی تھی اور نیچے گٹر تھا۔ اس نے بہت مصیبت زدہ نظروں سے ہمیں دیکھا اور پھر نیچے دیکھا۔۔ اور قریب قریب رونے جیسا منہ بنا کر کہا " ابے حرامیوں کیسے جمپ ماروں " میں کچھ کہتا اس سے پہلے ہی اس کے ڈرائیور نے بھی قریب قریب روتے ہوئے ہاتھ جوڑ کر کہا بٹ صاحب پلیز جمپ " اور پھر اسی انداز میں ہمیں بھی دھمکی دے ڈالی کہ اگر بٹ صاحب ٹپک گئے تو تم سب کو میں نہیں چھوڑوں گا۔۔ بٹ صاحب نے بلااخر ہمارے اصرار پر جمپ لگانے کی ٹھان لی ایک بار آگے کو کودنے کی حرکت کی مگر پیچھے ہوگئے پھر کوشش کی اور پیچھے ہٹ گئے " مگر تیسری کوشش میں انکھیں بند کردی کود گئے " مگر بدقسمتی دیکھیں ان کا ایک پائنچہ کھڑکی کی چٹخنی میں پھنس گیا۔۔ نیچے آنے کی بجائے بچارے اوندھے منہ کسی سرکاری پھاٹک کے مانند دیوار سے لگ گئے اور الٹے لٹک گئے !! وہ بٹ صاحب جو جند ساعت پہلے ہماری قسمت بدلنے والے تھے اس وقت خود بدقسمتی کا پنڈولم بن کر دیوار سے اوندھے منہ لٹکے تھے " جیب میں جو تھا وہ نیچے گٹر میں گر گیا تھا قمیض الٹ کر ان کے چہرے پر آگئی۔۔ جبکہ بٹ صاحب نے دونوں ہاتھوں سے اپنی شلوار پکڑ رکھی تھی اگر وہ شلوار کو چھوڑ دیتے تو ممکن تھا کہ شلوار کھڑکی میں رہ جاتی اور آپ بغیر شلوار کے نیچے گٹر میں اجاتے " بٹ صاحب خوب بڑبڑائے،، ہمیں بھی پکارا ،، مگر ہم خود تڑپ رہے تھے کہ اب پورا دفتر گرنیڈ کی طرح پھٹ کر بکھر جائے گا !!! اور بٹ صاحب کے پرخچے چاروں جانب پھیل جائیں گے" بٹ صاحب کی جدوجہد کام آگئی انھوں نے پائنچے کو ایک زوردار جھٹکا دیا جھٹکے ساتھ ہی آدھا پائنچہ چٹخنی میں پھنسا رہ گیا اور کٹ کر بٹ صاحب نیچے آ گرے " چوٹ تو ان کو آگئی مگر خود کو سہلائے اور کھجائے بغیر اٹھے اور ہماری جانب دوڑ لگا دی ان کی کھلی ہوئی شلوار اور ماتھے پر خون دیکھ کر ایسا لگا جیسے سلطان راہی مرحوم دھوتی پہنے دشمنوں کی جانب بڑھ رہے ہو -- بلکل ایسا ہی ہوا ڈرائیور بٹ صاحب کی جانب بڑھا جبکہ بٹ صاحب نے ہمیں وارننگ دئے بغیر زمین سے پتھر اٹھائے" اور لمبا کھینچ کر بولیں " تم لوگوں کی" بینڑ " اسم بہن کی جگہ وہ "بینڑ " بولے اور اس کے بعد "بینڑ " کے ساتھ وہ تمام نجی اعمال دوہرانے کا کہا جو نکاح کے بعد ہی روا ہوتے ہیں " جبکہ ہم نے بھی دوڑ لگا دی بٹ صاحب پیچھے جبکہ ڈائریکٹر آف سوسائٹی اینڈ مینجر دونوں آگے " اور ہر کچھ لمحے بعد کوئی پتھر ہمیں کراس کرکے آگے نکل جاتا۔۔ ہم سوسائٹی کی آخری دیوار پھلانگ کر بھاگ گئے اور پلٹ کر کبھی نا تو سوسائٹی کا رخ کیا اور نا ہی کبھی بٹ صاحب کو دیکھا۔۔ اور اس جلتے سلنڈر نے پھٹے بغیر وہ تھوڑا بہت بچا ہوا کباڑ جسے ہم فرینچر بول رہے تھے اسے خاکستر کردیا۔۔ موٹیویشنل اسپیکر پر بٹ صاحب نے اقدام قتل کا پرچہ کاٹا،، جسے رفع دفع کرنے میں موٹیویشنل اسپیکر کو اپنی موٹرسائیکل سے ہاتھ دھونے پڑ گئے۔۔ جبکہ پانچ ارب روپے کا وہ بحری جہاز گڈانی شپ یارڈ میں لمبے عرصے تک کھڑا ہمارا انتظار کرتا رہا۔ اس جہاز کو یہ علم ہی نہیں تھا کہ ہم پانچ ارب روپے کمانے سے چند ہی انچ کے فاصلے پر تھے کہ ناکام ہوگئے !!

"اور یوں ہماری 'پانچ ارب روپے والی مہم جوئی' ایک دھماکہ خیز انجام کو پہنچی - نہ تو ہمارا بحری جہاز آیا، نہ ہی بٹ صاحب کی شلوار بچ سکی! موٹیویشنل اسپیکر صاحب کا وہ تاریخی جملہ کہ 'ہم کر سکتے ہیں' آخرکار 'ہم بھاگ سکتے ہیں' میں بدل گیا۔ آج بھی جب کبھی گڈانی شپ یارڈ کا ذکر آتا ہے، ہماری آنکھوں کے سامنے وہی جلتا ہوا سلنڈر اور لٹکتے ہوئے بٹ صاحب گھوم جاتے ہیں۔ زندگی نے ہمیں ایک انمول سبق دیا تھا - جب کوئی آپ کو راتوں رات امیر ہونے کا خواب دکھائے، تو پہلے اس کے دفتر کی کرسی ضرور چیک کر لیں... اگر وہ سیمنٹ کے بلاکس سے ٹکی ہوئی ہے، تو سمجھ جائیں کہ یہ خواب نہیں، بلکہ اگلے دھوکے کی تمہید ہے!"

"باقی کہانی تو آپ کو پتا ہی چل گئی - موٹرسائیکل گئی، مقدمہ چلا، عزتیں گئیں، مگر وہ پانچ ارب کا خواب آج بھی کسی گڈانی کے کونے میں کھڑا ہمارا انتظار کر رہا ہے۔ شاید کسی دن کوئی اور 'موٹیویشنل ہیرو' اسے پورا کرے... یا پھر کسی اور کی شلوار کسی اور کھڑکی میں پھنس جائے

 

"ہمارے مزید مزیدار اور سبق آموز کہانیوں کے لیے ہمارے بلاگ اور فیس بک پیج کو فالو کریں اور اپنے دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں – کیونکہ زندگی کے یہ اسباق صرف آپ تک ہی محدود نہیں رہنے چاہئیں

Follow us on Facebook:

 https://www.facebook.com/share/1AB7TxdZuJ/