جاپانی عوام پبلک ٹرانسپورٹ میں دوران سفر کیوں نہیں بولتے؟
تہذیبوں کا آئینہ: اقوامِ عالم کی روایات کا عکس
دنیا کی ہر تہذیب اپنے منفرد رنگ و آہنگ سے انسانی معاشرے کے موزائیک کو مکمل کرتی ہے۔ جاپان کی پرسکون ٹرینیں جہاں اجتماعی نظم و ضبط کی پیکر ہیں، وہیں پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کی رواں دواں گلیوں میں زندگی کی شوخیاں اپنے عروج پر نظر آتی ہیں - جہاں بسوں کے اندر گرم جوشی سے ہنستے بولتے مسافر، گاڑیوں سے اٹھتی موسیقی کی لہریں اور چائے والوں کی آوازیں معاشرتی ربط کی داستان سناتی ہیں۔ عرب ممالک کی شاہراہیں جہاں جدیدیت اور روایت کا حسین امتزاج پیش کرتی ہیں، وہیں افریقہ کے دھنک رنگ قبائلی رقص اور تہوار زمین سے جڑے ہونے کا احساس دلاتے ہیں۔ یورپ کی سڑکوں پر انفرادیت کے پرستار جہاں اپنی ذات میں گم نظر آتے ہیں، وہیں لاطینی امریکہ کے شہروں میں خاندانی محفلیں رات گئے تک سماجی رشتوں کی مضبوطی کی گواہی دیتی ہیں۔ امریکہ کی تیز رفتار زندگی میں وقت کی پابندی جہاں کلچر کا حصہ ہے، وہیں ترکی و ایران کی گلی کوچوں میں صوفیانہ کلام روحانیت کی چاشنی بکھیرتا ہے۔ یہ تمام تہذیبیں اپنی اپنی جگہ مکمل ہیں، مگر ان کا مجموعہ درحقیقت انسانی تہذیب کی وسیع القلعی اور حسن قبولیت کی عکاسی کرتا ہے، جو ہمیں باہمی احترام اور تفہیم کا سبق دیتا ہے۔ اس مضمون میں ہم جانیں گے کہ جاپانی قوم کس قدر اپنی اقدار و روایات اور معاشرتی اصول وضوابط کی پاسداری کرنے کی پابند ہے ، موجودہ دور میں جاپانی قوم دنیا کی مہذب ترین اقوام میں سے ایک بہترین مقام کی حامل ہے ، جاپانی قوم سختی سے اپنی تمام معاشرتی اقدار کو احسن طریقے سے عمال پیرا ہوتی ہے ، چاہے وہ اخلاقی اقدار ہوں یا سماجی اصول و ضوابط ، تعلیمی میدان ہو ، یا کھیل کا میدان بحیثیت قوم ایک ہی سوچ سے اپنے فرائض کی ادائیگی کرتے ہیں ، اور یہی عمل جو ان کی سوچ اور کردار سے واضح ہوتا ہے ، اقوام عالم میں انہیں ایک مہذب اقوام کی صف میں اولین مقام دیتا ہے ، آیئے جانتے ہیں ، کہ، جاپانی قوم آخر کیوں اور کیسے پبلک ٹرانسپورٹ میں دوران سفر خاموشی اختیارکرتے ہیں ، چاہے ، وہ بس کا سفر ہو یا ٹرین کا ،
جاپانی عوامی ٹرانسپورٹ
پر خاموشی کیوں اختیار کرتے ہی؟
اس کے پیچھے کون سی معاشرتی اقدار کارفرما ہیں؟
دوسرے ممالک کے مقابلے میں جاپان کا رویہ کیوں منفرد ہے؟
اس خاموشی کے مثبت اور منفی پہلو کیا ہیں؟
خاموشی کا تجربہ
اگر آپ کبھی جاپان کی ٹرین یا بس میں سفر کریں، تو آپ کو حیرت ہوگی کہ وہاں کتنی پر سکون فضا ہوتی ہے۔ مسافر نہ تو اونچی آواز میں بات کرتے ہیں، نہ فون پر بولتے ہیں، اور نہ ہی کوئی شور مچاتا ہے۔ یہاں تک کہ بچے بھی خاموشی سے بیٹھے ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ جاپانی لوگ بات چیت نہیں کرتے، بلکہ وہ عوامی مقامات پر دوسروں کی راحت کو ترجیح دیتے ہیں۔
خاموشی کی چند مثالیں
فون کالز کا نہ ہونا
جاپان میں ٹرینوں میں فون کالز کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ لوگ ٹیکسٹ میسجز
یا ای میلز سے کام چلاتے ہیں۔
(Manner Mode)
جاپانی اپنے فونز کو ہمیشہ سائلنٹ یا وائبریشن موڈ پر رکھتے ہیں۔
سوتے ہوئے مسافر
جاپانی ٹرینوں میں اکثر لوگ سوئے ہوئے نظر آتے ہیں، کیونکہ وہ اس وقت کو آرام کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
خاموشی کے پیچھے جاپانی اقدار
جاپانی معاشرہ کئی اہم اقدار پر قائم ہے جو عوامی ٹرانسپورٹ پر خاموشی کو فروغ دیتے ہیں۔
“ وا" ہم آہنگی کا تصور
جاپانی ثقافت میں اجتماعی ہم آہنگی ("وا") کو انتہائی اہمیت
حاصل ہے۔ لوگ اپنے رویوں سے دوسروں کو تکلیف نہیں پہنچانا چاہتے۔ اسی لیے شور مچانا
یا اونچی آواز میں بات کرنا معاشرتی طور پر ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے۔
“کیوکیو شیتائی" عوامی جگہوں کا احترام
جاپانی لوگ عوامی جگہوں کو ذاتی جگہوں سے الگ سمجھتے ہیں۔ گھر یا دوستوں کے ساتھ وہ آرام سے بات کر سکتے ہیں، لیکن ٹرین یا بس میں خاموش رہنا ایک معیاری عمل ہے۔
“ مینوااری ” دوسروں کو پریشان نہ کرنا
جاپان میں یہ اصول بہت اہم ہے کہ "دوسروں کو تکلیف نہ دو۔" اسی لیے لوگ فون پر بات کرنے، زور سے ہنسنے یا کھانے پینے سے گریز کرتے ہیں
پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں عوامی ٹرانسپورٹ کے رویوں کا جاپان سے موازنہ
ملک | عوامی ٹرانسپورٹ کا رویہ
جاپان | مکمل خاموشی، فون کالز نہیں، کوئی شور نہیں
پاکستان| اونچی آواز میں بات چیت، موسیقی بجانا، مسافروں کا آپس میں گپ شپ کرنا
بھارت | زوردار گفتگو، موبائل پر بلند آواز میں بات کرنا، بسوں میں گانوں کی آوازیں
بنگلہ دیش | شور شرابہ، مسافروں کا ایک دوسرے سے بات چیت، ڈرائیور کا ہارن بجانا
امریکہ/ یورپ | معتدل شور، کچھ لوگ فون پر بات کرتے ہیں، عام طور پر پرسکون ماحول
تہذ یبی اقدار کا واضح فرق
- جاپان میں خاموشی اور نظم و ضبط کو ترجیح دی جاتی ہے
- جنوبی ایشیائی ممالک (پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش) میں زوردار گفتگو اور مصروف ماحول عام ہے
- مغربی ممالک میں درمیانہ رویہ پایا جاتا ہے
جاپان کا معاشرہ اجتماعی نظم کو انفرادی آزادی پر ترجیح دیتا ہے، جبکہ مغربی ممالک میں انفرادی اظہار کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔
خاموشی کے مثبت اور منفی پہلو
فوائد
پرسکون ماحول: مسافر پڑھنے، سوئے یا آرام کر سکتے ہیں
ناؤ میں کمی: شور کی کمی سے ذہنی دباؤ کم ہوتا ہے۔
معاشرتی نظم: لوگ دوسروں کا خیال رکھتے ہیں
نقصانات
جذباتی دوریاں: کچھ لوگوں کو لگتا ہے کہ یہ خاموشی معاشرے کو ٹھنڈا بنا دیتی ہے۔
سیاحوں کے لیے غیر متوقع: غیر ملکی سیاحوں کو یہ رویہ عجیب لگ سکتا ہے۔
کیا دوسرے ممالک جاپان سے سیکھ سکتے ہیں؟
جاپان کی خاموش ثقافت سے دنیا بھر کے شہری نظاموں کو سیکھنے کو ملتا ہے۔ اگرچہ ہر معاشرے کے اپنے رواج ہیں، لیکن عوامی جگہوں پر دوسروں کا خیال رکھنا ایک قابل تقلید عمل ہے۔ شور کی کمی نہ صرف ذہنی صحت کو بہتر بناتی ہے بلکہ معاشرتی ہم آہنگی کو بھی فروغ دیتی ہے۔
جاپانی عوامی ٹرانسپورٹ پر خاموشی محض ایک رسم نہیں، بلکہ گہری معاشرتی اقدار کی عکاسی ہے۔ یہ رویہ جاپانی ثقافت کے احترام، نظم اور ہم آہنگی کے تصورات پر مبنی ہے۔ اگرچہ یہ سب کے لیے قابل عمل نہیں، لیکن اس سے یہ سبق ضرور ملتا ہے کہ عوامی مقامات پر دوسروں کا خیال رکھنا کتنا ضروری ہے۔
خاموشی صرف آوازوں کی غیر موجودگی نہیں، بلکہ دوسروں کے لیے احترام کا اظہار ہے۔
اگر آپ کو یہ اخلاقی سوچ پسند آئی ہو ، تو ہمارے اس مواد کو اپنے پیاروں کے ساتھ شیئر کریں https://socialorbit2020.blogspot.com/، تاکہ ، ہم بحیثیت مسلم قوم اپنی سوچ اور عمل میں بہتریں اقدار کی پیروی کر کے ایک مہذب شہری اور مہذب قوم ہونے کا ثبوت دیں ۔ شکریہ
Online Ticket Booking in Pakistan Railways : https://www.pakrailways.gov.pk/home
0 Comments