ننھے ہاتھ ، بڑے خواب ، بچوں کیلیے کاروباری دنیا میں پہلا قدم

اسکول کی زندگی تو جیسے ایک رنگین کہانی ہے – ہر دن ایک نیا باب ، ہر لمحہ ایک نئی دریافت! یہ وہ سنہری دور ہے جب بچوں کے معصوم خواب اور بے فکری سے بھرپور لمحات کے ساتھ ساتھ ان کی شخصیت کی تعمیر بھی ہو رہی ہوتی ہے ۔ اسکول کی زندگی صرف کتابوں اور امتحانات تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ یہ وہ سنہری موقع ہے جب بچے نہ صرف علم حاصل کریں بلکہ عملی زندگی کی اہم مہارتیں بھی سیکھیں ۔ علمی مقابلے ہوں یا کھیل کا میدان ، کاروباری سرگرمیاں ہوں یا پھر سائنسی تجربات ، ہر ایک میدان میں سکول کے بچوں کو ضروری طور پر شراکت دار بنائیں ، تاکہ بچوں کی زندگی کے انتہائی اہم ایام میں ہی ان کو چھوٹی چھوٹی سرگرمیوں سے ان کی ذہنی و جسمانی نشونما بہترین انداز سے ہو ۔ ویسے تو ہر ایک مثبت سرگرمی بچوں کی ذہنی و جسمانی نشونما کیلیے نہایت ہی اہم اور مفید ہوتی ہے ، یہاں صرف ایک سرگرمی کا ذکر کریں گے ، اپنا کاروبار ، کیونکر ضروری ہے ، آج کے موجودہ حالات کے پیش نظر ہمیں اپنے نصاب تعلیم میں صرف لکھائی پڑھائی پر انحصار نہیں کرنا چاہیے ،بلکہ ، ہمیں اپنے بچوں کو عملی زندگی گزارنے کیلے کاروباری سرگرمیوں میں بھی عملی مشقیں کرانا لازمی ہے ، تاکہ ، وہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر صرف نوکری کے خواہاں نہ ہو ں بلکہ ، ان میں اتنی اہلیت ہو کہ ، وہ اپنا کاروبار چلا سکیں ، کلاس روم کی چاردیواری سے نکل کر جب بچے باہر کی دنیا میں قدم رکھتے ہیں ، اپنے حاصل کردہ علوم کو عملی شکل میں دنیا کے سامنے پیش کرکے  چھوٹی چھوٹی کامیابیوں کا مزہ چکھتے ہیں ، تو یہ عمل نہ صرف ان کی علمی زندگی کو متحرک بناتا ہے ، بلکہ، انہیں زندگی کے ہر قدم پر حالات و واقعات سے سیکھنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے ،  آج دنیا ایک گلوبل ویلج بن چکی ہے ، اب اقوام عالم کی سوچ بہت حد تک تبدیل ہو چکی ہے کہ  ، نوکری نہیں اپنا کاروبار ہونا چاہیے ۔  چھوٹی عمر میں کاروباری سرگرمیوں میں حصہ لینے سے بچوں کی اسکول لائف زیادہ رنگین، دلچسپ اور مفید ہو سکتی ہے۔ یہ تجربات نہ صرف ان کے لیے کھیل کا ایک نیا انداز بن جاتے ہیں بلکہ ریاضی کو عملی شکل میں سمجھنے، تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارنے اور فیصلہ سازی کی مہارت پیدا کرنے کا بھترین ذریعہ ثابت ہوتے ہیں۔ اسکول کے میلے، پراجیکٹس یا چھوٹی چھوٹی دکانیں لگانے جیسی سرگرمیاں بچوں کو پڑھائی کے ساتھ ساتھ زندگی کے اہم سبق سکھانے کا بہترین موقع فراہم کرتی ہیں۔ سکول کی یہ خوبصورت زندگی کاروبار کے چھوٹے چھوٹے تجربوں سے بہت زیادہ دلچسپ ، تعمیری اور مفید بنائی جا سکتی ہے ، جہاں پر بچہ نہ صرف سوچے سمجھے گا بلکہ ، عملی قدم بھی اٹھائے گا ، اور کاروباری تجربات سے اس کو نفع اور نقصان کا اندازہ ہوگا، بچے نہ صرف گنے گا بلکہ ، کمائے گا بھی سہی، بچے میں لوگوں کے ساتھ بات چیت کرنے کا ہنر بھی آئے گا، خود اعتمادی پیدا ہوگی ، اور ایک چھوٹا سا کامیاب کاروباری فرد بن کر ابھرے گا ۔  آئیے جانتے ہیں کہ کیسے اسکول کی روٹین میں کاروبار کے چھوٹے چھوٹے تجربات بچوں کی شخصیت کو سنوار سکتے ہیں اور انہیں مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کر سکتے ہیں۔

سماجی اثرات ۔

معاشرتی ہنر کی نشوونما ۔

جب بچہ تعلیم کے ساتھ ساتھ کاروباری سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتا ہے ، تو، اس کی زندگی میں کچھ خصوصیات بھی نشوونما پاتی ہے ۔ جیسا کہ ، اپنے معاشرے میں ایک بہتریں تعلقات بنانا ، مذاکرات کرنا ، لوگوں سے روابط قائم کرنا ، لوگوں کی شکایات اور پھر ان کے ازالے کیلیے کوشش کرنا  وغیرہ ، یہ تمام خصوصیات بچے کی زندگی میں مثبت تندیلی پیدا کرتی ہیں ، اور وہ اپنے معاشرے کیلیے ایک بہتریں فرد کیا کردار ادا کرتا ہے ۔

 معاشرتی ذمہ داری کا حصول ۔

جب بچہ عملی طور پر کاروبار شروع کرتا ہے ۔ تو ، اس کو اپنے معاشرے کیلیے مفید اور مثبت سرگرمیوں میں شراکت داری کا موقع ملتا ہے ۔ کہ ، معاشرے کی کیا ضروریات ہیں ، اور ان کو کیسے پورا کیا جا سکتا ہے ۔ اپنے کاروبار کے منافع میں سے سماجی مسائل کے حل کیلیے کب کیسے اور کہاں خرچ کرنا ہے ۔

خاندانی و سماجی ربط

والدین اور اساتذہ کی راہنمائی سے بچوں میں خاندانی روابط مضبوط ہوتا ہے ۔ اور ساتھ میں اپنے محلے یا سکول کے بچوں کے ساتھ شراکت داری کر کے یک جہتی اور اعتماد کا جزبہ پروان چڑھتا ہے ۔

مستقبل کے معاشرتی رہنما

 https://socialorbit2020.blogspot.com/2025/05/blog-post_22.html یہ بھی آپ کو پڑھنا چاہیے ۔

آج کے یہ چھوٹے چھوٹے کاروباری قدم ، مستقبل کیلیے ایک معاشرتی انقلاب کی بنیاد ہیں ، جب ہم بچوں کو بچپن میں ہی کاروباری سرگرمیوں میں شراکت دار بناتے ہیں ، تو ان میں خود انحصاری ، اپنے اردگرد لوگوں کی قیادت کرنا اور معاشرے میں مثبت تبدیلی کیلیے تگ و دو جیسی خصوصیات پروان چڑھتی ہیں۔

مسائل کی نشاندہی کرنا اور ان مسائل کو مواقع میں بدلنا۔

بے روزگاری کی بجائے روزگار کے مواقع پیدا کرنا۔

معاشی خود انحصاری کی راہ پر گامزن ہوں گے۔

تعلیمی اثرات

بچپن میں ہی کاروباری سرگرمیوں میں شراکت داری کرانے کا ایک مثبت پہلو یہ بھی ہے ۔ کہ تعلیمی اثرات گہرے اور دیرپا ہوتے ہیں ، جس سے بچوں کی سوچنے سمجھنے اور سیکھنے کی صلاحیت کو ایک نئی جہت دیتے ہیں۔ جب بچے چھوٹے چھوٹے کاروباری سرگرمیوں میں شرکت دار ہوتے ہیں ۔ تو ، ان کو یہ موقع ملتا ہے کہ ، وہ اپنے تشخص کو نکھار سکیں ، جب بچے کاروباری سرگرمیوں میں عملی قدم رکھتے ہیں ، تو، ان کو نفع ، نقصان ، کا پتا چلتا ہے ، لوگوں سے بات چیت کرنا ،اور اپنے کاروبار کی تشہیر کرنے کا ہنر آجاتا ہے ۔ کتابی علم کی بجائے عملی اقدام سے بچوں میں سوچنے ، سمجھنے اور سیکھنے کا انداز بہتر ہوتا ہے ۔ نئی مہارتیں سیکھنے کا موقع ملتا ہے ، منصوبہ بندی کرنا اور عملی اقدام اٹھانا جیسی خصوصیات پیدا ہوتی ہیں۔ بچے جب دیکھتے ہیں کہ، علم عملی کام آ رہا ہے تو ان میں خوشی اور مزید سیکھنے کی ہمت ، جستجو پیدا ہوتی ہے کاروباری سرگرمیوں سے بچوں کی زندگی میں پیسے کا انتظام کرنا ، بچت ، سرمایہ کاری اور ذمہ داری کا شعور بیدار ہوتا ہے ۔ کہ ، کیسے اور کتنی محنت و مشقت سے آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے ۔

اساتذہ اور والدین کا کلیدی کردار ،

اساتذہ اور والدین کو چاہیے کہ ، وہ بچوں کی حوصلہ افزائی کریں ، ان کو ایک محفوظ اور مناسب ماحول مہیا کریں ، تاکہ ، بچے اپنی صلاحیتوں کو عملی جامہ پہنا سکیں ۔ ان کی چھوٹی چھوٹی کامیابیوں پر ہمیشہ ان کو شاباش ، نیک خواہشات اور حوصلہ دیں ، تا کہ ، ان کی شخصیت میں مثبت پہلو اجاگر ہوں۔

بچوں کو بچپن میں کاروباری تجربہ حاصل کرنے کے منصوبے کو  مکمل کرنے کیلیے درج ذیل سرگرمیاں دی جارہی ہیں ، ان کو اپنائیں ۔

آئیڈیا جنریشن ( میری دلچسپی میرا کاروبار )

سب سے پہلے تو بچوں کو یہ ذمہ داری دیں کہ ، وہ اپنی پسند اور سوچ کا کاروباری آئیڈیا لکھیں ۔ جیسا کہ، ڈرائینگ بنانا ، کھانا پکانا ، یا پھر پودے لگانا وغیرہ ، پھر ہر سرگرمی سے جڑے کاروبار سوچیں ، جیسا کہ، ڈرائینگ کیلیے ، ڈیزائن گفٹ کارڈز بنانا ، کھانا پکانے کی سرگرمی میں ہاتھ سے بنے ہوے بسکٹس ، چپس ، یا کوئی ایسی کھانے کی پکا کر بیچنا ، کہ جو سب کی قوت خرید میں ہو، پودوں کے حوالے سےسرگرمی کیلیے ، مٹی کے گملے بنانا اور بیچنا ، اس سے بچوں میں سوچنے سمجھنے اور تخلیق کرنے کا جذبہ پیدا ہوگا ،

نوٹ : اس میں آپ کو یہ بتاتا چلوں ، کہ کاروباری سرگرمیوں میں شراکت داری صرف طالب علم ہی نہیں کریں گے ، بلکہ ، طالبات بھی اس میں اپنے خیالات ، اپنے ائیڈیاز کو عملی جامہ پہنا سکتی ہیں ۔

جب بچے اپنے کاروباری آئیڈیاز کا انتخاب کرلیں ، تو، اب منصوبہ بندی کریں ۔ کہ کب ، کیسے اور کس کیلیے ان آئیڈیاز کو عملی جامہ پہنائیں ۔ کہ ایک کاروباری آئیڈیا کیلیے کتنی رقم درکار ہوگی ، خام مال کہاں سےمناسب قیمت پر ملے گا ، کوشش کریں ، بچے ایسے کاروباری آئیڈیاز کا انتخاب کریں ، جس کا تمام خام مال اپنے گھر ، محلے سے باآسانی دستیاب ہو ۔ پھر ان اشیاء کی قیمت کا تعین بھی کریں ۔ کہ ، جو سب کی قوت خرید میں ہو ، سب سے اہم پہلو یہ ہے ، ان اشیاء کو کون خریدےگا ،https://socialorbit2020.blogspot.com/2025/06/blog-post_9.html کسی بھی کاروبار کیلیے سب سے اہم پہلو یہی ہے ۔ کہ ، کس کی ضرورت ہمارے اس کاروباری آئیڈیا سے پوری ہو سکتی ہے ۔ تب جا کر ایک کامیاب کاروبار کی عمارت کی تکمیل ہوگی ۔ پھر ان اشیاء کے بارے میں اپنے گاہکوں کو کیسے معلومات پہنچائیں ، کہ ، مطلب کی اپنے کاروبار کی تشہیر کس طرح کریں ۔ تمام عوامل کی تکمیل کے بعد اب سکول میں ایک کاروباری میلے کا انعقاد کریں ۔ تا کہ ہر وہ بچہ جو کاروبار کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے ۔ وہ اپنی اشیاء کو اس میلے میں سب کیلیے دستیاب کرے ۔ اس میں قیمت کا تعین اور قیمت کا ظاہر کرنا بھی شامل ہے ۔ میلے کے انعقاد پر اساتذہ کرام ، اپنے طالب علموں کے والدین ، اہل محلہ اورسماجی ورکرز کو مدعو کریں ، اختتام پر بچوں کو اس کامیاب سرگرمی کے انعقاد پر نیک خواہشات ، حوصلہ افزائی کریں ۔ تا کہ ، ان کی سوچ مزید پختہ ہو کہ ، تعلیم کے حصول کے بعد ہم نے صرف نوکری کا انتظار نہیں کرنا ، بلکہ ، معاشرے میں مثبت کردار کی بدولت اپنا کاروبار شروع کرنا ہے ۔ تا کہ اپنی شخصیت ، اپنے اہلخانہ اور اپنےمعاشرے کیلیے ایک بہترین فرد کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کر سکیں ۔

امید ہے آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہوگی ، تحریر پڑھنے کا شکریہ، اپنوں کے ساتھ بھی شئیر کیریں ۔

تحریر : ندیم لاشاری

https://www.facebook.com/SocialOrbit1020

مزید معلوماتی تحریر کیلیے ہمارے فیس بک پیچ کو فالو کریں